اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام میں سرگرم دھشتگردی گروہ ’’جبہۃ النصرہ‘‘ نے گزشتہ روز شام کے شیعہ نشین علاقے ’’حطلہ‘‘ میں شیعہ ہونے کے جرم میں ۶۰ افراد کو شہید کر دیا۔دھشتگردوں کے اس بھیانک اور ناقابل برداشت اقدام کا ایک نمونہ یہ ہے کہ تکفیریوں نے اس علاقے کے رہنے والے ایک شیعہ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابراہیم السید کے کمسن بیٹے کو اس کی ماں کے سمیت تمام اہل خانہ کے سامنے ذبح کردیا۔دھشتگردوں نے صرف لوگوں کو ذبح کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے جسدوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈال دیا۔شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تکفیریوں نے اس علاقے میں موجود مساجد اور امام بارگاہوں کو آگ لگا دی ہے اور کچھ خواتین کو اغوا کر لیا ہے۔’’ حطلہ‘‘ دیہات شہر دیر الزور کے مشرق میں واقع ہے جہاں ۲۰ ہزار آبادی ہے جبکہ اکثریت شیعوں کی ہے۔ 

اگر اس علی اصغر کی ماں رباب زندہ ہوتی تو وہ بھی یہی کہتی: ’’ا مثلک ینحر‘‘ کیا تمہارے جیسے بھی ذبح کئے جاتے ہیں!
کہاں ہیں انسانی دل سینوں میں رکھنے والے؟ کہاں ہیں شوق شہادت رکھنے والے؟ کہاں ہیں ھل من ناصر ینصرنا کی صدا پر لبیک کہنے والے؟ آئیں اولاد رسول کو بچائیں، اولاد رسول پر آج بھی کربلا ٹوٹی ہوئی ہے۔ یا حسین آجرک اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲